ہم بحیثیت قوم ایک اجتماعی ذہنی توزیع (cognitive dissonance) کا شکار ہیں جس نے ہماری قوت بصارت، فکر و فہم اور نئے تصورات و حقائق کا مطالعہ یہ ان سے مکالمہ کرنے کی صلاحیت کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔

یہ بوکھلاہٹ ہماری زبان، ذہنیت، معاشرے، ادارے، نظام حکومت اور معیشت سمیت ہمارے اجتماعی وجود کے ہر پہلو پر غالب ہے اور ان میں موجود عیوب کی ایک بڑی وجہ ہے۔ جب تک اس کیفیت کو تبدیل نہیں کیا جاۓ گا ہم تذبذب کا شکار رہیں گے اور اس مستقل اضطراب کی کیفیت سے نکلنے میں ناکام رہیں گے.

اس کی سب سے واضع علامت ہمارے یاں اردو اور انگریزی پر مبنی، ایک ایسی ذہنی، سماجی، معاشی، اور نظریاتی تقصیم ہے، جس نے ہمارے اجتماعی شعور میں مشرقی اور مغربی تصورات کے مابین ایک تعمیراتی مکالمے اور قدرتی جدلیاتی عمل (dialectical process) کو معلق کر دیا ہے۔

کوئی بھی زبان اسے بولنے والوں کے باہمی اور اپنے گرد و نواح کے ماحول اور واقعات سے مکالمے کے نتیجے میں ہزاروں سالوں کی ارتقا کے عمل سے وجود میں آتی ہیں لہذا یہ اپنے اندر اپنی قوم کی تاریخ کی یاد اور اجتماعی شعور سموئے ہوتی ہے۔

 تقصیم کی ایک جانب اکثریت اردو اور اپنی مادری زبانوں میں رواں اور تعلیم و تربیت حاصل کردہ ہیں جو ان کی ان ثقافت، نظریات، تاریخ اور شناخت سے وابستہ ہیں اور ان میں وہ ادبی اور فنی مواد موجود ہے جنہیں وہ اپنے آبا و اجداد کی وراثت سمجھتے ہیں اور یہی ان کی روزمرہ کی زبانیں ہیں جن میں وہ ہنستے، روتے ہیں، روزگار کی تگ و دو کرتے ہیں، اپنے پیاروں کو یہ کبھی اپنے رب کو پکارتے ہیں یہ اپنے دشمنوں کو کوستے ہیں۔ یہ زبانیں ہمارے لوگوں کے لیے ایسی ہیں جیسے کسی پرندے کے لیے اس کا نغمہ۔

دوسری جانب انگریزی ہے جو ایک عالمی زبان عام بن چکی ہے اور اس میں رواں افراد کے لئے جدید مغربی ترقی، علم، و فن و ادب کا ایک لا ساحل سمندر کھل جاتا ہے۔ یہ سامراجی دور کی وراثت ہے اور ہمارے یاں صرف ایک چھوٹا سا طبقہ انگریزی میں اس طرح رواں ہے کہ اس سے صحیح طرح مستفید ہو سکے، لیکن ابھی بھی یہ ہمارے وجود کے تقریباً ہر پہلو پر اس طرح غالب ہے کہ اسے نہ جاننے والے بھی اس کی اجارہ داری سے بچ نہیں سکتے۔ اعلی نظام تعلیم، نظام حکومت، نظام قانون، نظام معیشت، کاروبار اور ذریعہ معاش، تاریخ، مواصلات، طب، تجارت، سمیت ہر شعبہ اس ہی کی لغت پر مشتمل اور منحصر ہیں اور دور حاضر میں یہ انگریزی سے آشنائی کسی بھی قوم کے لیے ناگزیر ہے لیکن اس کے باوجود یہ ہمارے وطن کی آب و ہوا میں اجنبی لگتی ہے۔


انسان فطری طور پر اپنی مادری زبان میں سوچتے ہیں اور یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک قوم کی فہم و فکر اور اجتماعی سطح پے ان کے ذہنوں میں ممکن خیالات و تصورات کی حدود کسی حد تک اس زبان کی لغت طے کرتی ہے۔ 

انسانی قوت تخیل کی بدولت اس دائرہ فہم میں اضافہ کیا جاتا ہے اور پہلے سے موجود تصورات کو محاورے اور متشابہات کے ذریعے ان دیکھے مناظر اور تصورات کی خاکہ کشی کی جا سکتی ہے۔ مثلاً صحرائی باشندے کو برف اس کی زبان میں “ٹھنڈی صفید ریت” کہ کے متعارف کیا جا سکتا ہے

جبکہ شمالی قبائلی کو صحرائی ٹیلوں کا منظر “خشک ریت سے بنی موجوں کا سمندر” بتلایا جا سکتا ہے۔ 


یہی وہ عمل ہے جسے ترجمہ کہتے ہیں اور اس عمل سے قوموں کی اجتماعی فہم و فکر میں توسیع اور ترقی کا راستہ کھل جاتا ہے ۔

اگر زبان کی لغت ایک قوم کی اجتماعی سوچ کی حدود طے کرتی ہے تو یوں ترجمے اور اندراج کے ذریعے اس کی اجتماعی فکر و شعور میں توسیع ممکن ہو جاتی ہے اور نئے تصورات، نظریات، افکار، ادب، جمالیات، زاویے، علوم اور انکشافات اس زبان کو جاننے والے ہر ایک شخص کے لئے دستیاب ہو جاتے ہیں۔